Email This Post Email This Post
Home » Past Year Papers

فیڈرل بورڈ نہم اردو (لازمی) ایس ایس سی 2009

January 11, 2011
فیڈرل بورڈ نہم اردو 2009

(حصہ اول کل نمبر( 15

سوال نمبر 1 – دیے گئے الفاظ میں سے درست جواب کا انتخاب کیجیے اور اپنا انتخاب یعنی الف/ب/ج/د ہر جزو کے سامنے دیے ہوئے خالی خانے میں لکھیے۔ ہر جزو کا ایک نمبر ہے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم “فصل کا نیا میوہ” سب سے پہلے کس کو دیتے تھے؟

لڑکی کو
عورت کو
سب سے کم عمر بچے کو
بوڑھے کو

ایک خادم خلق کی کہانی: میں کس نے کہا! جان ہے تو جہان ہے؟

دانائی نے
خود غرضی نے
مصلحت نے
شجاعت نے

امتیاز علی تاج کا تحریر کردہ “آرام و سکون” صنف کے اعتبار سے کیا ہے؟

ناول
افسانہ
حکایت
ڈرامہ

منشی پریم چند کے مضمون “بڑے بھائی صاحب” میں بڑے بھائی کے مطابق انگریزی پڑھنا کیا نہیں ہے؟

خالہ جی کا گھر
ہنسی کھیل
عام بات
بچوں کا کھیل

چراغ حسن حسرت کے مضمون “سند باد جہازی” کے مطابق کون لوگ “اردو، اردو اور وطن، وطن” کا شور مچاتے ہیں؟

عوام
لیڈر
مزدور
طلباء

نظم “رب العالمین” کے مطابق اللہ تعالی نے اپنے “لظف اور احسان کی شان” کیسے بڑھائی؟

رزق دینے سے
بخشش کرنے سے
زندگی عطا کرنے سے
محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت اللعالمینی سے

نظم “حضرت ام عمارہ رضہ” کے مطابق غزوہ احد میں حضرت ام عمارہ رضہ نے اپنی سر و گردن پر کتنے زخم کھائے؟

دس
پانچ
تیرہ
آٹھ

نظم “خواب کا تعبیر” کا شاعر کون ہے؟

احسن دانش
ظفر علی خان
جمیل الدین عالی
تعیم صدیقی

بہادر شاہ ظفر کی غزل میں لفظ “صیاد” سے کیا مراد ہے؟

ہندوستانی عوام
شاہی خاندان
انگریز سرکار
خود بہادر شاہ ظفر

جگر مراد آبادی نے اپنی غزل میں کس شے کو “نعمت” قرار دیا ہے؟

خوشی و مسرت کو
زندگی اور صحت کو
غم و الم کو
توفیق کو

وہ اور اس قواعد کی رو سے کیا ہیں؟

اسم معرفہ
اسم ضمیر
اسم آلہ
اسم صورت

ایسا جملہ جو مبتداء “خبر اور فعل ناقص پر مشتم ہو” کیا کہتلاتا ہے؟

جملہ فعلیہ
جملہ اسمیہ
جملہ تام
جملہ ناقص

درخت زمیں کا زیور ہیں: یہ تینوں اسم ایسے ہیں جو نہ کسی لفظ سے نکلے ہیں اور نہ ان سے کوئی اور لفظ نکلتا ہے۔ قواعد کی رو سے انہیں کیا کہتے ہیں؟

اسم نکرہ
اسم جامد
اسم مصدر
مرکب ناقص

۔”میں ۔ سے ۔ پر ۔ تک ۔ کو” قواعد کی رو سے کیا ہیں؟

حروف اضافی
حروف نسبتی
حروف جار
حروف صفتی

لفظ “لکھاری” قواعد کی رو سے کیا ہے؟

اسم موصول
اسم مشتق
اسم حاصل مصدر
اسم معروف

(حصہ دوم کل نمبر( 34

سوال نمبر 2 الف – نصابی کتاب کو روشنی میں مندرجہ ذیل سوالات میں سے بارہ 12 اجزاء کے تین سے چار سطروں تک محدود جوابات لکھیں۔

عورتوں کی حیثیت کو بلند کرنے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ارشاد فرمایا؟

خادم خلق اپنی موت کو کیوں شاندار قرار دیتا ہے؟

۔”سفارش” کی وجہ سے انسانی حقوق پر کیا اثر پڑتا ہے؟

ٹوکیو میں اصلی شگوفوں کی کمی کی وجہ کیا ہے؟

بابائے اردو مولوی عبدالحق نے زندگی کی تلخیوں سے بچنے کا کیا نسخہ تجویز کیا ہے؟

نظم “حضرت ام عمارہ رضہ” کا مرکزی خیال کیا ہے؟

کاش تہذیب نوی کے کھیل کو سمجھوسراب سے کیا مراد ہے؟ نظم “تعمیر چمن” کے حوالے سے وضاحت کیجیے۔

نظم “خدا دیکھ رہا ہے” میں “جذبہ بیمار” سے کیا مراد ہے؟

نظم “کھڑاڈنر” میں سید ضمیر جعفری نے ہمارے کس معاشرتی رویے پر طنز کیا ہے؟

نظم “وصال” کا مرکزی خیال تحریر کیجیے۔

میر کی غزل میں درد و غم اور اشک فشانی کی بنیادی وجہ کیا ہے؟

مولانا حسرت موہانی نے اپنی غزل میں کس کے آسرے کی بات کی ہے؟ وضاحت کیجیے۔

ادا جعفری کی غزل میں “ایک شمع کے بجھنے کے بعد اور جلالینے” کا کیا مطلب ہے؟

درج ذیل سوالات میں سے کوئی سے پانچ سوالات اجزاء حل کیجیے۔

جملہ بنا کر نذکیر و تانیث واضح کیجیے: میز – ناول

متصاد لکھیں: کاہل – ویران

مترادف لکھیں: اجنبی – حیا

مندرجہ ذیل محاورات کو جملوں میں اس طرح استعمال کریں کہ معنی واضح ہوجائیں: اوسان خطا ہونا – آفت کا پر کالا ہونا

۔”علامہ اقبال قومی شاعر ہیں” کی ترکیب نحوی کیجیے۔

۔”مطلع” کی تعریف کیجیے اور ایک مثال بھی دیں۔

سوال نمبر 3 – مصنف، سبق اور اس کے متن کا مختصر حوالہ دیتے ہوئے کسی ایک نثر پارے کی تشریح کیجیے۔

الف – آخری غوطے سے قبل میں نے دیکھا کہ تماشائیوں کی اس مختصر جماعت میں کن کو ابھی بچایا تھا، اضطراب عظیم پیدا ہے۔ بچے بلک بلک کر میری سلامتی کے لیے “یا خدارحم! یا خدا رحم! پکاررہے تھے۔ عورتیں دامن پھیلائے دعائیں ماگ رہی تھیں۔ مرد سر بسجود تھے۔ کل نواز نے میرا حال دیکھا۔ چیختا ہوا پانی میں کودا یہ آخری نظارہ تھا جو میں نے روئے زمین پر دیکھا۔ لوگ مضطرب تھے میں مطمئن۔ کہاں مجھ سا فاسق وفاجر، کہاں یہ شان دار موت مجھے اس کا وہم بھی نہ گزرا تھا۔

ب – سادہ لفظوں میں اس فلسفے کے معنی یہ ہیں کہ پاکستان کو چلانے کی تمام ذمہ داری اللہ تعالی پر ہے۔ دیانتداری فقط قائداعظم کے لیے ہے اور ہمارا کام صرف دنیا داری ہے۔ لفظ دنیاداری تین اجزاء کا مرکب ہے۔ چوری، رشوت اور خویش پروری کا۔ ایسے سفارش طلبوں سے گلوخلاصی کا موثر طریقہ ایک ہی ہے کہ آپ مسکرا کر ان کا بازو تھا میں انہیں گھر کے دروازے تک لے جائیں اور ایسا کرتے ہوئے انہیں کھینچنے کی ضرورت پڑے تو یہ ضرورت بھی پوری کریں اور آخر پھاٹک پر پہنچ کر خندہ پیشانی سے خدا حافظ کہیں اور پھاٹک سے باہر کردیں اور لازم نہیں کہ اس عمل میں فقط ہاتھوں سے کام لیں۔

سوال نمبر 4 – شاعر اور نظم کا حواہ دیتے ہوئے کسی ایک نظم پارے کی تشریح کیجیے۔

الف – چلے ہم نقد عصیاں لے کر آمرزش کے سودے کو | کہ نرخ اس جنس کا کچھ بھی نہیں رکھا گراں تونے
اثر تیری عطاوں پر نہیں پڑتا خطاوں کا | جسے پیدا کیا اس کو دیا ہے آب و ناں تونے

ب – جس طرح ممکن ہو تعمیر چن کرتے رہو | کام اپنا اے محبان وطن کرتے رہو
زندگی یکسر محرک سکوں یکسر ہے موت | کچھ نہ کچھ اے نوجوانان وطن کرتے رہو

سوال نمبر 5 – شاعر کا حوالہ دیتے ہوئے کسی ایک غزلیہ جزو کی تشریح کیجیے۔

الف – بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ | قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں
ان حسرتوں سے کہ دو کہیں اور جابسیں | اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں

ب – ہر نغمے نے انہی کی طلب کا دیا پیام | ہر ساز نے انہی کی سنائی صدا مجھے
ہر بات میں انہی کی خوشی کا رہا خیال | ہر کام سے غرض ہے انہی کی رضا مجھے

سوال نمبر 6 – اپنے چھوٹے بھائی کے نام خط لکھیں جس اسے ہاسٹل میں دل لگار کر پڑھنے اور بری صحبت سے بچنے کی تلقین کیجیے۔

سوال نمبر 7 – دو دوستوں کے درمیان “ایمان – اتحاد اور تنظیم” کی ضرورت کو موضوع پر مکالمہ تحریر کیجیے۔

یا

مندرجہ ذیل اقتباس کو غور سے پڑھیے اور آخر میں دیے گئے سوالات کے جوابات اپنے الفاط میں دیجیے۔

دعا انسان اور اس کے پروردگار میں ایک خوبصورت رشتہ ہے جو ازل سے ابد تک رہے گا۔ دعا توانائی کی ایک بہت ہی طاقتور قسم ہے جس کا انسانی ذہن اور انسانی جسم پر ایسا ہی اثر ہوتا ہے جیسے غدودوں کا عمل ہوتا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مسلسل دعا کے بعد بدن میں ایک طرح کی لہر پیدا ہوجاتی ہے۔ ذہنی قوت چمک اٹھتی ہے سکون پیدا ہوجاتا ہے اور انسانی رشتوں کے گہرے اور دور رس عوامل سمجھ میں آنے لگتے ہیں۔ سچی اور راست باز زندگی دعا سے معرض وجود میں آتی ہے۔ یہ انسان اور اللہ تعالی کے درمیان ایک خفیہ معاملہ ہے اور سچ تو یہ ہے کہ روح کے اس سرگوشی کا نام دعا ہے جس میں ایک معمولی سابندہ اپنے خالق سے ہمکلام ہوجاتا ہے۔

سوالات

مصنف کے نزدیک “دعا” سے کیا مراد ہے؟

دعا انسان کے دل و دماغ پہ کس طرح اثر انداز ہوتی ہے؟

سچی اور راستباز زندگی دعا کی بدولت کیسے وجود میں آتی ہے؟

۔”دعا” انسان اور اللہ تعالی کے درمیان کس قسم کا احساس جنم دیتی ہے؟

اللہ کی بارگاہ میں رسائی دعا کے ذریعے کیسے ممکن ہوتی ہے؟ وضاحت کیجیے۔

Fahim Patel

By Fahim Patel

Fahim Patel is the Content Manager of guesspapers.net. A graduate from Karachi University, he has intensive experience in content production.

Comments

comments