Home » Class XII » XII Urdu » مرزا اسداللہ خان غالب

مرزا اسداللہ خان غالب

حرفِ آغاز

پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے
کوئی بتلاو کہ ہم بتلائیں کیا

مرزا اسداللہ خان غالب کا تعارف کرانا بلاشبہ سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ وہ اردو شاعری کی دنیا کا وہ درخشاں آفتاب ہیں جو تا قیامت اسی آب و تاب سے روشن رہے گا۔ غالب بحیثیت شاعر ایک ایسی شخصیت ہے جو زمان و مکان کی قید سے آزاد ہیں۔ وہ ایک مکمل دور ہیں۔ ایک منفرد اندازِ فکر کے بانی۔ ان کے یہاں شمشیر و سناں اور طاوس و رباب کا حسین امتزاج ملتا ہے ۔ ان کی شاعرانہ عظمت کو ہر دور میں تسلیم کیا گیا۔ خود وہ بھی اس کا ادراک رکھتے ہیں

ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیان اور

غالب کی ریختہ نگاری کی خصوصیات

غالب کی ریختہ نگاری کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

جدت طرازی
غالب کے قصرِ نظم و نثر کی بنیاد ہی جدتِ خیال و بیان پر رکھی گئی ہے۔ ان کی احتراع پسند طبیعت بیان کے نئے نئے پیرائے تلاش کرتی ہے۔ یہ جدت ادا میں، مضامین میں، تشبیہات میں، استعارات میں، خیال میں، غرض ہر پہلو میں نمایاں ہوتی ہے

جس روش پر دوسرے چل رہے تھے مرزا نے اس سے الگ ایک نئی روش اختیار کی ۔ (حالی)

عکسِ کلام پیش ہے

پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور

جدتِ ادا
غالب کی شاعری میں جہاں نت نئے موضوعات بیان ہوئے ہیں۔ وہاں ان کا طرزِ ادا بھی بہت مختلف اور منفرد ہے۔ وہ معمولی مضامین اس حسن و خوبی سے شعر میں باندھتے ہیں کہ دل میں اتر جاتے ہیں۔

غالب کی شاعرانہ عظمت کا قصر ان کی جدت طرازی پر تعمیر ہوا ہے۔ (آل احمد سرور)

بقول غالب تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دھر میں

تیرے سوا بھی ہم پر بہت سے ستم ہوئے

فکرو فلسفہ
غالب کا مزاج فلسفیانہ ہے۔ وہ حیات و کائنات کے مختلف پہلووں پر مفکرانہ اور حکیمانہ خیالات رکھتے ہیں۔ اس ہی وجہ سے غزل حدیث دلبری سے بڑھ کر حدیثِ زندگی بن گئی ہے۔ غالب کا یہ فلسفہ زندگی کی پرپیچ راہوں میں روشنی کی مانند ہے۔
عکسِ کلام ملاحظہ کیجئے

قیدِ حیات و بندِ غم، اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

غم ہستی اسد کس سے ہو جز مگ علاج
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک

ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسد
عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے
بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے
ہوتا ہی شب و روز تماشا میرے اگے

آفاقی لہجہ
آج کا انسان جس بے یقینی، محرومی اور تنہائی کے مسائل سے دوچار ہے، غالب نے اپنی شاعری میں ان ہی تمام کیفیتوں کو سمو دیا ہے۔ اس وجہ سے ان کا لہجہ آفاقی ہوگیا ہے۔ مثال کے طور پر

عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب
دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک

روایت سے بغاوت
غالب طبعاً ایک جدت طراز اور روایت شکن شاعر تھے۔ انہوں نے روایت پرستی کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور زندگی کو عطیہ خداوندی سمجھ کر اس کے گوناگوں حسن کی طرف اپنی چشم تماشا کو وا کیا ۔ انہوں نے زندگی کی تکلیفوں پر کڑھنے کے بجائے ایک حوصلے سے کام لیا۔
مثلاً

ایسی جنت کا کیا کرے کوئی
جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں
واعظ نہ تم پیو نہ کسی کو پلاسکو
کیا بات ہے تمہاری شرابِ طہور کی

طاعت میں تار ہے نہ مے وانگبیں کی لاگ
دوزخ میں ڈال دے کوئی لے کر بہشت کو

ندرتِ خیال
خیال کی ندرت غالب کی بہت اہم خصوصیت ہے۔ وہ غزل کے انوکھے مضامین کو زیادہ موثر اور شگفتہ بنانے کے لئے خوبصورت تراکیب، استعارات اور نادر تشبیہات سے کام لیتے ہیں۔ مثلاً

بس کے دشوار ہے ہر کام کا آسان ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا

چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن
ہمارے حبیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے

جذبہ عشق
غالب کا نظریہ عشق بھی اوروں سے مختلف ہے۔ نہ وہ سوزو گداز ہے اور نہ وہ سپردگی اور والہانہ پن ہے۔ ان کے دردوغم پر ہنس لینے کا جذبہ موجود ہے۔ عشق کے وجدانی اور حیات کی آسودگی کا اظہار بھی ہے۔ نمونہ کلام درج ذیل ہے

نیند اس کی ہے دماغ اس کا ہی راتیں اس کی ہیں
جس کے شانوں پر گری زلفیں پریشان ہوگئیں

وہ اپنی خونہ چھوڑیں گے ہم الہی وضع کیوں بدلیں
سبک سر بن کے کیا پوچھےں کہ ہم سے سرگرداں کیوں ہو

انسانی نفسیات سے آگاہی

غالب فطرتِ انسانی اور نفسیات کے گہرے رمز آشنا تھے۔ وہ زندگی اور اس کے مصائب ووسائل کو حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھتے تھے۔
مثال کے طور پر

رنج سے خوگر ہو انسان تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پہ کہ آساں ہوگئیں

مضمون آفرینی
غالب کے نزدیک شاعری محض قافیہ پیمائی نہیں بلکہ مضمون آفرینی ہے۔ وہ اشعار میں خیال افروز نکات اور باریکیاں بیان کرتے ہیں۔
عکسِ کلام پیش ہے

ان کے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

پہلوداری
ان کے اکثر اشعار میں ہمیں دو دو مفاہم پوشیدہ نظر آتے ہیں۔

غالب کے اشعار تراشے ہوئے نگینے کی مانند ہر پہلو سے ایک نیا انداز دکھاتے ہیں۔ (خلیل الرحمان اعظمی)
مثلاً
کوئی ویرانی سے ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کر گھر یاد آیا

ایجازو اختصار
غزل میں بات ڈھکا چھپا کر کہنا ان کی بنیادی خصوصیت ہے۔ غالب کم سے کم الفاظ میں بڑے بڑے مضامین یوں ادا کرتے ہیں گویا دریا کو کوزے میں بند کرتے ہیں۔
نمونہ کلام درج ذیل ہے

ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا

کیا فرض ہے سب کو ملے ایک سا جواب
آ نہ ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کی

آراہ ناقدین
غالب لاشعور کا شاعر ہے جس کے لاشعور کا ایک بہت بڑا حصہ اس کے شعور کی طرح بیدار ہے۔ اس کی تخلیق ہی شعر کے لئے ہوئی تھی۔ جس طرح بیج قوتِ نمو کے ہاتھوں زمین میں پھلتا پھولتا ہے اسی طرح کی قوت غالب سے شعر کہلواتی ہے۔ (سلیم یزدانی)

بزمِ ہستی میں غالب نے جو فانوس روشن کیا، کون سا پیکر ایسا ہے کہ جو اس کے کاغذی پیراہن پر منازلِ زیست قطع کرتا ہوا نظر نہیں آتا۔ (عبدالرحمن بجنوری)

غالب ایک فرد نہیں ایک نسل ہے۔ وہ دلچسپ لمحوں کا ترجمان نہیں ایک پورے دور کا نمائندہ ہے۔ ایک ایسے دور کا جذباتی ترجمان ہے جو ابھی ختم نہیں ہوا۔ ایک ایسی نسل کا تغمہ جو دفنائی نہیں گئی۔ (رشید احمد صدیقی)

حرف آخر
غالب کی جدت پسندانہ، فلسفہ کی گہرائی، انسانی فطرت سے مکمل واقفیت، حکیمانہ تخیل، خیال کی بلندی، ندرتِ کلام، یہ تمام خوبیاں مل کر ان کو ایک بلند اور عظیم شاعر ثابت کرتی ہیں۔
بقول اقبال

لطف گویائی میں تری ہم سری ممکن نہیں
ہو تخیل کا نہ جب تک فکرِ کامل ہمنشیں

محو حیرت ہے ٹریا رفعت پرواز پر
منطق کو سو ناز ہے تیرے لبِ اعجاز پر

Fahim Patel

By Fahim Patel

Fahim Patel is the Content Manager of guesspapers.net. A graduate from Karachi University, he has intensive experience in content production.

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>