Home » Class XI » XI Urdu » مرزا اسد اللہ خان غالب غزل 1

مرزا اسد اللہ خان غالب غزل 1

حوالہ

مندرجہ بالا شعر مرزا اسد اللہ خان غالب کی ایک غزل سے لیا گیا ہے۔

تعارفِ شاعر

مرزا اسد اللہ خان غالب گلشنِ سخن کے ایک ایسے حسین گلاب ہیں جس کی مہک آج تک اردو غزل گوئی کو معطر کرتی آرہی ہے۔ غالب کا فن رسوم کی حدود وقیود سے بالاتر ہے جو اردو شاعری کے اعلیٰ ترین معیار کی ترجمانی کرتا ہے۔ان کے کلام میں ہر رنگ کا موضوع ملتا ہے۔ انہوں نے نہایت انوکھے مضامین شگفتہ اور مو�¿ثر انداز میں بیان کئے۔ اُن کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے رشید احمد صدیقی بیان کرتے ہیں۔

دورِ مغلیہ نے ہندوستان کو تین چیزیں عطا کی ہیں- اردو زبان‘ تاج محل اور مرزا اسد اللہ خان غالب۔

شعر نمبر ۱

کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی

مرکزی خیال

اس شعر میں غالب اپنے حالات سے مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔

تشریح

زیرِ نظر شعر غالب کے کلام کا ایک حصہ ہے۔ آپ اس میں کہتے ہیں کہ ہماری زندگی کا بحر کبھی پُر سکون نہیں رہا بلکہ اس میں ہر لمحہ کوئی نہ کوئی مقناطیسی لہر طوفان برپا کر دیتی ہے۔ غمِ دوراں نے ہماری زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ہماری کوئی دعا کوئی تمنا پوری نہیں ہوتی۔ ہماری امید میں صرف خواب ہیں جن کی کوئی تعبیر نہیں۔ ہماری زندگی ایک غار تیرہ کی مانند ہے جس میں روشنی کر کرن کے لئے کوئی گنجائش نہیں۔ ہمیں اس تاریکی میں اپنی سانسیں ڈوبتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ لیکن ہمیں اس اندھیرے سے نکالنے والا کوئی نہیں اور کوئی مشعل نہیں۔ یہ زندگی ایک پرخار راہ ہے اور ہمیں یہ کٹھن راہ کسی منزل تک جاتی ہوئی نظر نہیں آتی۔

اصل میں شاعر یہاں پر بتانا چاہ رہے ہیں کہ انسان کی زندگی خواہشآت اور آرزوﺅں سے معمور ہے اور نامرادی عشق کا مقدر ہے۔ غالب اب عشق کی اُس منزل تک پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ لیکن تمنائے عشق کی تکمیل کی صورت بھی نظر نہیں آتی۔ اُمیدیں دم توڑ دیتی ہیں۔ جینے کی ہر راہ مفقود ہو چکی ہے۔ لیکن حصولِ محبوب ناممکن ہو گیا ہے یعنی عشق میں ہم ناکام اور محروم تمنا ہو کر رہ گئے ہیں

مماثل شعر

کوئی اُمید بر آئی نہ ارمان نکلا
زندگی بھر کسی کنجوس کا داماں نکلا

شعر ۲

موت کا ایک دن معین ہے
پھر نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

مرکزی خیال

اس شعر میں شاعر نے انسانی فطرت کی ایک کمزوری کا تذکرہ کیا ہے کہ انسان موت سے خوف زدہ رہتا ہے۔

تشریح

پیشِ نظر شعر میں شاعر نے یہ حقیقتِ حال بیان کی ہے کہ موت اٹل ہے اور ہر انسان کو آنی ہے۔ ہر انسان ایک نہ ایک دن قبر کی گود میں سلادیا جائے گا۔ شاعر کہتا ہے کہ جب انسان کو پتہ ہے کہ اس کی موت کا وقت مقرر ہے اور وہ ایک دن ایک مقررہ وقت پر ہی اس زندگی سے محروم کیا جائے گا تو وہ کس چیز کا خوف کھاتا ہے۔ اسے کیوں اس زندگی سے اتنا پیار ہے اور وہ کیوں موت سے بھاگتا ہے اور اس فکر میں پریشان ہوتا کہ کہیں ابھی اس کی زندگی ختم نہ ہو جائے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب کسی حقیقت پر پختہ یقین ہو ہائے تواسے تسلیم کرکے اپنی باقی مصروفیات پر عمل کرنا چاہئے بجائے اس کے کہ اس اٹل حقیقت جو کہ ناقابلِ ترمیم ہے کو بدلنے کی فکر کی جائے۔ اس شعر میں انسانی فطرت کی کمزوری بیان کی گئی ہے

شعر نمبر ۳

آگے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی

مرکزی خیال

اس شعر میں غالب اپنے دل کے مرجھانے کا تذکرہ کر رہے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں غالب کہتے ہیں کہ تقدیر نے ہمیں اس زندگی میں اتنی ضربات لگائی ہیں کہ ہم لہولہان ہو گئے ہیں۔ ہم کبھی تو اپنی خرابی قسمت کا شکوہ کرتے ہیں اور کبھی آپ ہی اپنی تقدیر کی کم ظرفی پر مسکرا دئے۔ پہلے کبھی ہمیں اپنے حال پر آپ ہی ہنسی آ جایا کرتی تھی کہ غمِ دوراں سے نڈھال ہوئے بیٹھے ہیں اور ہم اپنے آپ کا ہی تمسخر اُڑایا کرتے تھے۔ کبھی کبھی ہم اپنی بے بسی سے محفوظ ہوا کرتے تھے لیکن اب مقدر کی بے رحمی حد سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس نے ہمیں غمِ جاناں دے کر ہم سے وہ مسکراہٹ بھی چھین لی جو اپنے حال کو دیکھ کر ہی ہمارے لبوں پر آجاتی تھی۔ یہ شعر سادگی و سلاست کے اعتبار سے لاجواب ہے۔ غالب فرماتے ہیں کہ عشق میں آدمی بدحواس اور بد حال ہو جاتا ہے کیونکہ رنج و غم اس کی زندگی کا جز بن جاتا ہے۔ انتدائے عشق میں جب عشق کا غلبہ بڑھتا ہے۔ محبوب نے ابتداء اور آزمائش میں مبتلا کر دیا تو حالت دگرگوں ہو جاتی۔ اس وقت اپنی یہ حالت دیکھ کر خود اپنے ہی حال پر ہنسی آجاتی۔ لیکن اب افسردگی اور پزمردگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ کسی بات پر ہنسی نہیں آتی

مماثل شعر

بے کلی بے خودی کچھ آج نہیں
ایک مدت سے وہ مزاج نہیں

شعر۴

جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زُہد
پر طبعیت اِدھر نہیں آتی

مرکزی خیال

پیشِ نظر شعر میں شاعر اپنی دین کی طرف سے بے رغبتی اور اس دنیا کی طرف کشش بیان کر رہے ہیں۔

تشریح

شاعر کہتا ہے کہ ہم ایک صاحبِ شعور انسان ہیں اور ہم میں عقل و فہم موجودہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں علم و حکمت کی دولت سے نوازا ہے۔ ہمیںاللہ تعالیٰ کے دین کا علم حاصل ہے۔ ہم اسلامی تعلیمات سے مکمل آگہی رکھتے ہیں۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کو کتنی اہمیت حاصل ہے اور تقوی و پرہیزگاری کا کیا صلہ ملے گا۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پابندی کرنے سے ہماری دنیوی و اخروی زندگی سنور جاے گی۔ ہمیں یہ بھی خبر ہے کہ کس نیکی کا کیا اجر ملے گا اور ان کے کیا ثمرات ہوں گے لیکن ہم کیا کریں کہ عبادت اور دین کی طرف ہماری طبعیت مائل نہیں ہوتی۔ ہم نمازوں اور روزوں کی پابندی نہیں کرتے‘ہم اللہ تعالیٰ کے احکامات بجا نہیں لاتے‘ ہم دنیا کی دلکش و حسین رنگینیوں میں گم ہو گئے ہیں۔ ہمارے دل کو اس دنیا کی دلکشیوں نے اپنی طرف مائل کر لیا ہے اور ہم اب اس سے منہ پھیرنے کےلئے تیار نہیں۔ ہم اب صرف وہی کرتے ہیں جو ہمارا دل ہم سے کہتا ہے

مماثل شعر

جائے ہی جی نجات کے غم میں
ایسی جنت گئی جہنم میں

شعر نمبر ۵

ہے کچھ ایسی ہی بات جو چُپ ہو
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی

مرکزی خیال

اس شعر میں غالب اپنی خاموش طبعی کا ذکر کر رہے ہیں۔

تشریح

شاعر اس شعر میں فرماتے ہیں کہ عاشق اپنے محبوب کے سامنے زیادہ تر خاموش دو وجوہات ہی کی بناء پر ہوتا ہے۔ ایک تو یہ کہ محبوب کے حسن کے جلوﺅں کا اُس کے دل پر اس قدر ہجوم ہوتا ہے کہ وہ ساکت و سامت جلوہ محبوب میں گُم ہو جاتا ہے یا دوسری وجہ یہ ہے کہ مصلحتاً خاموش رہتا ہے کہ کہیں محبوب کی رسوائی نہ ہو یا اُس کے راز فشاں نہ ہوجائیں اور پھر محبوب عاشق سے ناراض ہو جائے۔

غالب کہتے ہیں کہ ہم بھی اپنے محبوب کے تصور میں اس قدر مدہوش ہیں کہ دنیا و مافیہا ہی سے بے خبر ہو گئے ہیں۔ ورنہ ہمیں بھی اندازِ بیاں پر قدرت حاصل ہے اور ہم بھی اظہارِ جذبات پر قادر ہیں۔ مگر بولتے اس لئے نہیں کہ کہیں اظہارِ محبت اور حالِ دل سن کر کہیں ہمارا محبوب خفا نہ ہو جائے یا ہمارے دل کی تحریر پر اپنا نام لکھا دیکھ کر اُس کے مزاجِ نازک پر گراں نہ گزر جائے۔ خاموشی کے پردے میں ہم بھی اپنے عشق کی معراج چاہتے ہیں۔ ہمیں ہر بات کرنا آتی ہے لیکن ہر بات کا اظہار کرنا عقلمندی نہیں ہوتی۔ منزلِ عشق کا حصول ہی وہ مصلحت ہے جس کی خاطر ہم چُپ چاپ ہیں

مماثل شعر

قسمت ہی سے لاچار ہوں اے زوق وگرنہ
سب فن میں ہوں طاق کیا مجھے نہیں آتا

شعر نمبر ۶

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی

مرکزی خیال

اس شعر میں غالب اپنے عالمِ بے خودی کا ذکر کر رہے ہیں۔

تشریح

عشق میں ایک مقام ایسا بھی آتا ہے کہ جب آدمی فنانی المحبوب ہو جاتا ہے۔ ہمہ وقت محبوب کے خیال اور تصور میں ڈوبا رہتا ہے۔ اس کے وجود محبوب کے وجود میں مدغم ہو جاتا ہے۔ غالب بھی اس شعر میں یہی کہہ رہے ہیں کہ ہم عشق کی بھول بھلیوں مین اس طرح کھو گئے ہیں کہ اس سے نکلنے کی کوئی راہ نظر نہیں آتی۔ جس راہ پر نکلتے ہیں وہ راہ اسی طرح ہمیں دھوکہ دے رہی ہے جس طرح خضر نے سکندر سے فریب کاری کی تھی۔ ہم راہِ عشق میں اُلجھے چلے جا رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی محبوب کی یاد کو دل سے نکالنا نہیں چاہتے۔ کیونکہ ہم نے اس کے عشق کے مے پئے ہیں۔ اور اس کی آنکھوں سے شباب نے ہمیں پُر کیف کر دیا ہے۔ ہم مدہوشی کی حالت میں دنیا و مافیہا سے بے خبراس پتھر کے صنم کی پرستش کئے چلے جا رہے ہیں۔ ہم اپنی منزل کی تلاش میں سرگرداں ہیں لیکن منزلِ حدنظر تک نہیںبس ہم اسکی یاد کے سہارے اس کے نقش پر چلتے ہی چلے جارہے ہیں۔

مماثل شعر

بے خودی کہاں لے گئی ہم کو
بہت دیر سے انتظار ہے اپنا

شعر نمبر ۷

مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
موت آتی ہے، پر نہیں آتی

مرکزی خیال

اس شعر میں غالب کہتے ہیں کہ وہ بڑے فریاں نصیب ہیں۔

تشریح
جو مصائب کو ہجوم ہو، ناکامیوں اور محرومیوں سے رات بھر سابقہ رہے، کوئی تدبیر کارگر نہ ہو، معمولی معمولی خواہشات اور آرزوﺅں کا خون ہونے لگے تو پھر آدمی زندگی سے بدظن ہو جاتا ہے اورموت کی آرزو کرنے لگتا ہے۔ لیکن موت پر چونکہ اختیار نہیں ہوتا اس لئے عجیب کشمکش میں آدمی مبتلہ رہتا ہے۔

غالب یہی چیز سامنے رکھ کر کہتے ہیں کہ ہماری قسمت میں غمِ جاناں اور غمِ دوراں کے علاوہ کچھ تحریر نہیں۔ ہم نے گردشِ زمانہ کے ہاتھوں بڑے زخم کھائے ہوئے ہیں۔ رنج و الم کی آندھیوں کے درمیان معلق ہیں۔ اور ان آندھیوں کی تنک مزاجی نے ہماری روح کو کچل کر کے رکھ دیا ہے۔ ہم موت طلب کرتے ہیں لیکن بد نصیبی کی انتہا یہ ہے کہ موت بھی ہم تک نہیں پہنچ پاتی۔ ہماری زندگی کی آج تک کوئی خواہش پوری نہیں ہوئی اور اب موت کی آرزو بھی پوری نہیں ہوتی۔ اور غمِ زمانہ سے ہم روز مر کر زندہ ہوتے ہیں

مماثل شعر

موت بھی وقت پر نہیں آتی
زندگی کے ستم نرالے ہیں

شعر نمبر ۸

کعبہ کس منہ سے جاﺅ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی

مرکزی خیال

اس شعر میں غالب اپنی زندگی پر بڑی ہی لطیف انداز میں تبصرہ کر رہے ہیں۔

تشریح

شاعر کہتا ہے کہ آدمی عمر کی آخری منزل میں قدم رکھتا ہے تو پھر اسے آنے والی نئی زندگی کا خیال دامن گیر ہوتا ہے اور وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اے غالب! تم نے خانہ کعبہ کی زیارت کا ارادہ کیا ہے جبکہ تمہارا دامن معصیت اور گناہوں سے بھرا ہوا ہے۔ تم نے ساری زندگی شاہد پرستی، شراب خوری اور قمار بازی میں گزار دی۔ اب تمہیں ایسی گناہ آلود زندگی کے ساتھ اللہ کے دربار میں حاضر ہوتے ہوئی شرم نہیں آئے گی؟ تمہارے پاس کونسا عمل ایسا ہے جس کو لے کر تم وہاں جاﺅ گے اور اُس کر کرم طلب کرو گے؟ مطلب یہ کہ ہماری زندگی میں سوائے گناہوں کے اور کچھ نہیں ہے۔ اب آخری وقت میں خدا کے حضور کیا منہ لے کر جائیں گے

مماثل شعر

عمر تو ساری کٹی عشق بتاں میں مومن
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

Fahim Patel

By Fahim Patel

Fahim Patel is the Content Manager of guesspapers.net. A graduate from Karachi University, he has intensive experience in content production.

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>